سورة النسآء
مختصر تفسیر ،
سورة النسآء آیت میں الله اور بندوں کے حقوق و فرائض کے بارے میں بتایا گیا،
ارشاد ھو رہا ھے اے میرے بندو صرف اپنے خالق و مالک کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی اور کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ،
اپنی عبادت و وحدانیت کی تلقین فرمانے کے بعد والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا کہ ان کے ساتھ تمہارا برتاؤ ھمیشہ ایک فرمانبردار اولاد جیسا ھونا چاھیے، کلام پاک میں کئی جگہ اپنی عبادت کے بعد والدین کے ساتھ اچھے طرز عمل کا حکم دیا گیا ھے(سورہ لقمان 14 بنی اسرائیل 23 وغیرہ)، اس کے بعد ایک اچھے معاشرے کی تعمیر کے لیے قریبی رشتے داروں، یتیموں، مساکین اور ایسے رشتے دار جو پڑوسی بھی ھوں اور اجنبی پڑوسیوں کے ساتھ اچھے سلوک کا حکم فرمایا گیا،
ساتھ ھی ؛صاحب بالجنب؛ ھم نشین، دوست، ساتھی اور مسافر اور لونڈیوں اور غلاموں کے ساتھ بھی حسن سلوک کا حکم فرمایا گیا ان سب کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم فرمانے کے بعد فرمایا کہ تم اگر عاجزی اختیار کرو گے تو الله جل و علا کو تمہاری عاجزی بہت پسند آئے گی کیوں کہ وہ ذاتِ والا صفات کسی بھی متکبر اور شیخی بگھارنے والے شخص کو بلکل پسند نہیں فرماتا.
؛مختال؛ مغرور اور متکبر شخص،
؛فخور؛ اپنی تعریفیں کرنے والا، اپنے اوپر فخر کرنے والا، شیخیاں مارنے والا۔
آیت 37
الله پاک نے جس انسان کو وسیع رزق دے رکھا ھوا اور وہ اس مال کو نہ صرف الله سبحانہ و تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے خرچ نہ کرے اور نہ ماں باپ یا لوگوں کو اس مال سے فیض پہنچائے بلکہ الٹا اس مال کو لوگوں سے چھپانے کے لیے اپنے کھانے پینے، پہننے اوڑھنے میں بھی ایسا بخل کرے کہ لوگ سمجھیں کہ بیچارہ بڑا غریب ھے اس چیز کو الله پاک نے بخل کہا ھے اور بخیل جو خود بھی بخل کرے اور لوگوں کو بھی اس پر ابھارے الله تبارک و تعالیٰ کے نزدیک انتہائی قابل نفرت شخص ھے، آیت کا مفہوم یہ ھے کہ جس شخص پر الله واحد کا رزق کے معاملہ میں فضل ھو اس کے رھن سہن سے اس کی رزق کی وسعت کا پتہ چلنا چاھیے اور اسے اس وسعت کو چھپانا نہیں چاھیے،
اللہ کریم کے بندوں کو ہر صورت بخل سے بچنا چاھیے کیوں کہ بخل یعنی کنجوسی ایک ایسی لعنت ھے جو انسان کی ھزاروں خوبیوں پر پانی پھیر دیتی ھے اور سخاوت ایسا گن (گ پر پیش)/صفت ھے جو انسان کی سینکڑوں خامیوں پر پردہ ڈال دیتی ھے۔
والله اعلم بالصواب
Comments
Post a Comment