Posts

Showing posts from April, 2022

عمران خان کا شجرہ نسب اور کچھ حقائق s

 عمران خان کا شجرہ نسب اور کچھ حقائق Please read Complete.. سسرال یہودی ننھیال قادیانی: عمران خان کا قادیانیوں سے کیا رشتہ ہے؟ عمران خان کی والدہ کا خاندان قادیانی ہے......!!!! تفصیل؛ کمشنر احمد حسن ولد منشی گوہر علی جالندھر والے کٹر قادیانی تھے، جنہوں نے جالندھر بابا خیل میں پہلی قادیانی عبادت گاہ کی بنیاد رکھی- منشی گوہر علی کا شمار مرزا غلام قادیانی کے 313 اصحاب میں سے پندھرویں نمبر پر ہے. کمشنر احمد حسن کی اولاد بھی قادیانی تھی، جن میں سے ایک بیٹی شوکت خانم نے میانوالی کے اکرام اللہ خان نیازی سے شادی کی ( اکرام اللہ نیازی مسلمان تھے مرحوم کے بیٹے (عمران خان) نے یہودی لڑکی سے ویاہ رچایا تھا) کیا شوکت خانم نے قادیانیت ترک کرکے اسلام قبول کرلیا تھا یا نہیں اس کا بہتر جواب تو ان کے صاحبزادے وزیراعظم عمران خان صاحب ان کی بہنیں یا باقی خاندان والے ہی دے سکتے ہیں- البتہ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ کمشنر احمد حسن کا باقی خاندان و بیٹیوں کا سسرال اب بھی قادیانی ہے. جن میں سے قابل ذکر عمران خان کے خالہ زاد بھائی خالد برکی، شاہد جاوید برکی تحریک انصاف کے سربراہ و سابقہ وزیر خزانہ بھی رہے (بھٹو...

حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب صحافی حضرات' سیاستدان' اور اکابرین امت کی نظر میں

Image
 حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب صحافی حضرات' سیاستدان' اور اکابرین امت کی نظر میں ۔۔ 1. جسٹس سید افضل حیدر تحریک بحالی جمہوریت کے صفحہ 77 میں لکھتے ہیں آئی ایس آئی کے مالی امور کے نگران جنرل نصرت سے ایک بار پوچھا کہ پاکستان میں کوئی ایسا سیاستدان بھی ھے جس نے ایجنسیوں سے رقم نہ لی ہو جنرل صاحب نے کہا صرف ایک ھے وہ ھے مولانا فضل الرحمن، 2. مولانا فضل الرحمن کی اس وقت حیثیت وہی ھے جو کسی زمانے میں مولانا عبیداللہ سندھی رحمتہ اللہ علیہ کی تھی انکی باتیں لوگوں کے فہم و ادراک سے بالاتر ہوتی تھیں اور وہ مولانا سندھی رحمتہ اللہ علیہ کو طنز و تشنیع کا نشانہ بناتے تھے وقت نے مولانا سندھی رحمتہ اللہ علیہ کو سچا اور درست ثابت کیا،  (ڈاکٹر قبلہ ایاز صاحب سابق وائس چانسلر پشاور یونیورسٹی) 3. مفتی محمود رحمتہ اللہ علیہ کے جنازے پر جنرل ضیاءالحق نے کہا آج مولویوں کی سیاست ختم ہوگئی تو نواب زادہ نصراللہ مرحوم نے مولانا فضل الرحمن صاحب کا ہاتھ پکڑ کر کہا نہیں جنرل صاحب مفتی صاحب کی سیاست جوان بن کر سامنے آگئی ھے، 4. میرے نزدیک سیاسی فہم اور ادراک میں مولانا فضل الرحمن کا کوئی ثانی نہیں صدر یا ...

رمضان میں ٹی وی

 رمضان میں ٹی وی مولانا یونس پالن پوری ایک واقعہ سناتے ہیں کہ جب میں عمرہ کرنے گیا تو آصف شیخ مجھے ساتھ لے کر ایک ڈاکٹر علوی صاحب کو مبارکباد دینے گئے کہ انہیں بادشاہ نے شہریت دی تھی۔ وہ ڈاکٹر بھی کیا کمال کے تھے۔ ان کے ساتھ جدہ کا سفر کیا۔ انہوں نے اگلی سیٹ پر بیٹھے ہوئے ایک عجیب و غریب سوال کر دیا :  مکہ کے پہاڑ اتنے بنجر کیوں ہیں۔۔۔؟ شاہ صاحب میں نے دنیا کے کئی پہاڑ دیکھے مگر وہ مکہ کے پہاڑوں کی طرح بنجر اور بے آب و گیاہ نہیں ہیں۔۔۔؟  اس کے پیچھے اللہ کی منشا کیا ہے۔۔۔؟ اپنا علم تو وہیں دھرا رہ گیا. میں نے تو سرنڈر کر دیا۔ وہ مسکرائے اور کہنے لگے : قبلہ اللہ پاک چاہتے تھے کہ آنے والے حاجیوں کی توجہ صرف میرے گھر پر رہے. اس شہر کو پکنک پوائنٹ نہیں بنایا جائے۔۔ بات دل کو لگی۔ یہ پرانا واقعہ مجھے اب کیوں یاد آیا۔۔۔؟ یہ جو رمضان شریف میں چینلز پر طوفان بدتمیزی چل رہا ہے یہ باقاعدہ سوچی سمجھی سازش کے ساتھ مختلف میڈیا مالکوں کو کروڑوں روپے دیئے جارہے ہیں کہ رمضان کا تقدس پامال کرو، سحر و افطار کے اوقات کو تفریح بنا دو۔ رمضان کوئی فیسٹیول نہیں ہے۔ وہ اوقات جو اللہ کی رحمتیں ل...

مولانا فضل الرحمان ایک عجیب مولوی ۔۔۔ .

Image
 فضل الرحمان ایک عجیب مولوی ۔۔۔  . پاکستان کے تمام سیکولر اور لبرل طبقوں کی طرف سے ہمیشہ تنقید کی زد میں رہنے والا یہ مولوی عجیب طبیعت کا مالک ہے کسی لبرل اور سیکولر سے شکوہ نہیں کرتا کہ میں کیوں ہدف تنقید ہوں  اس پر کرپشن کے الزامات لگائے گئے لیکن شدید ترین مخالف چیف جسٹس شدید ترین مخالف گورنمنٹ مل کر بھی اس مولوی کے خلاف کرپشن کا کوئی کیس نہیں بنا سکے  نیب اور آنٹی کرپشن کے اداروں میں تو اس کے خلاف کبھی کوئی درخواست پیش نہیں ہوئی افتخار چوہدری جیسا مخالف جج بھی اس پر کوئی کیس نہیں بنا سکا  اس پر اور اس کی جماعت پر دہشت گردی کے الزامات لگائے گئے لیکن کبھی کسی تھانے میں اس پر کوئی مقدمہ درج نہیں ہو سکا اسٹبلشمنٹ نے بڑے بڑے سیاست دانوں کو کھلونا بنا کر استعمال کیا لیکن اس مولوی کے شدید مخالفین بھی اعتراف کر رہے ہیں کہ یہ مولوی کبھی بھی اسٹبلشمنٹ کا مہرہ نہیں بنا اس پر ہر حکومت میں شامل رہنے کے الزامات لگائے گئے لیکن اس نے اپنی پوری سیاسی کیریر میں صرف دو مرتبہ کسی حکمران جماعت سے اتحاد کیا اور پینتیس سالہ سیاسی زندگی میں مجموعی طور پر صرف سات سال حکومت میں شریک ...